Zarrin Shuwayaen Febraury-2020

اداریہ :
مجھے کچھ کہنا ہے
قارئین کرام السلام علیکم ورحمة اﷲ وبرکاتہ- فروری /مارچ/اپریل 2022 کا شمارہ آپ کی مطالعہ کی نذر- اس دوران محور زمین تو وہی رہی لیکن آسمان نے کیا کیا نہیں دیکھا- کووڈ-19 سے آفات کا سلسلہ شروع ہوا -اومیکرون نے بھی ہنگامہ برپا کیا -اس وباءسے سارے عالم نے منہ پر نقاب نہیں بلکہ ماسک چڑھادیا- اورایک طرح سے لوگ اس کے عادی ہوگئے-اس دوران حضرت انسان نے بھی اپنی کرتوتوں کا خوب خوب مظاہرہ کیا – کسی نہ کسی بات پر فریقین میں تفرقے ، نفرتوں کا بازار بھی گرم رہا -کہیں کہیں تو عداوتیں اس قدربڑھ گئیں کہ انسان انسان کا دشمن ہوگیا -2020 سے چلا سلسلہ 2022 تک جاری رہا -کووڈ -19 نے لاکھوں جانیں ختم کردیں -اس نے ساری دنیا میں تالہ لگوادیا-کام بند، خریدوفروخت بند، اسکول کالجس تعلیمی ادارے،سافٹ ویر کی عالیشان عمارتیں،ریلوے ،ہوائی جہاز، موٹرگاڑیاں کہیں نہیں ،زندگی ایک دوہرائے پر آکر منجمد ہوکر رہ گئی تھی -اکثر خاندانوں میں کھانے پینے کے لالے پڑ گئے-بھوک مری ،مزدوروں کی ہجرت، طویل مسافت، تھکے مارے نوجوان، بزرگ ،مجبور، خواتین پریشان، ذریعہ معاش کچھ نہیں -بچی بچائی رقم پونجی سب دسترخوان پر خرچ-
دوستو،قارئین کرام! اس دوران انسانوں کے لئے خود کو محاسبہ کرنے کا خوب وقت ملا، ایسی حالات میں زندگی کن حالات سے نبردآزما ہوتی ہے کس قدر صبرآزما دور ہوتا ہے،جس پر گزرتی ہے وہی جانے- وہ لوگ جن پر اوپروالے کی بے شمار عنایتیں تھیں ، انہوں نے ضرورت مندوں پر بہت مہربانیاں کی-غذا، پانی ،دوائیاں، کمبل ،دودھ، راشن وغیرہ سے تعاون کرتے رہے -شہربنگلور میں NGOs کی خدمات قابل تعریف رہیں-حالات درمیانی طبقے کے قابل توجہ تھے -یہ نہ کسی سے مانگ سکتے تھے نہ ہی اپنے بچوں کو بھوکا رکھ سکتے تھے -تیسرا طبقہ تھا مزدور، انہوں نے چند دن تک تو لوگوں کی خیراتی اداروں کے ذریعہ سے حالات کا مقابلہ کرتے رہے -جب کووڈ کا ستم جاری بھی رہا اس وقت ہجرت کی سوچی اورلاکھوں مزدوردھوپ ،بارش ،ہواکے تیز جھونکوں کی پرواہ کئے بغیر ہجرت کی- یہ بائیسویں صدی کا سانحہ کبھی بھولے نہیں بھول پائیں گے -لاکھوں جانیں تلف، لاکھوں کو کووڈ نے مارا-بھوک مری ہوئی، دوران ہجرت کئی جانیں چلی گئیں- لیکن 2022 نے آہستہ آہستہ مسکرانا سکھایا- اﷲ سبحانہ تعالیٰ کا کرم ہوا ، دنیا کا کاروبارایک بار پھر چل نکلا- ویسے تو اکا دکا کہیں نہ کہیں رنگ،نسل، علاقہ، زبان ، مذہب کو لے کر جگہ جگہ تکراریں جاری رہیں- عموماً ہر خاص وعام، امن پسند ہندوستانی ہے -ہرشہری کی یہی خواہش ہوتی ہے ملک میں امن قائم رہے –
سال 2022 کے ابتداءہی سے سرخیوں میں رہا ہے -کبھی حالات کیا ہوں اس کا اندازہ نہیں رہتا- اڈپی کا حجاب تنازع دوماہ سے طول پکڑ رہا ہے -معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں ہے- شنوائی پر شوائی جاری ہے – امید ہے مکمل انصاف ہوگا- اور طالبات اپنی جماعتوں میں شان سے لوٹیں گی- کیونکہ وطن عزیز کا آئین اس کا پریامیل ہرشہری کی مکمل حفاظت کا ضامن ہے – لیکن بدنصیبی یا حالات کی ستم ظریفی کہئے بنیادی حقوق کےلئے بھی آواز اٹھانی پڑتی ہے -مثال کے طورپر اڈپی اورشیموگہ ریاست کرناٹک میں حجاب کے سلسلے میں جو حالات پیش آئے اس کی گونج پورے ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ ایک طرح سے ملک عزیز سے باہر بھی موضوع بحث رہا- آخر نتیجہ یہ رہا کہ شیموگہ میں بیس طالبات اور اڈپی کی تین طالبات کو بارہیں جماعت کی طالبات کو امتحان کے مرکز میں جماعتوں کے اندر آنے سے روکا گیا-
download pdf
About Editor
Trending Books & Magazine
About the Editor
0 Comments